Tuesday, 11 April 2017

Ya Allah.....:(((( these Khawarij Takfiris...

The charge-sheet stated that the accused had during interrogation disclosed the whole story which proved their involvement in the bomb blast. They had said in their statements that the victims of the attack – the Sunni Tehrik activists -- were the followers of the Barelvi school of thought while they belonged to the Deobandi school of thought.

The accused were stated to have said that the Deobandis did not consider the Barelvis to be Muslims. In order to kill the Sunni Tehrik leaders in a bomb blast, Mufti Ilyas, Qari Abid, Sultam and Mohammad Siddique (the bomber) held a meeting at the residence of Rehmatullah in Qasba Colony and prepared the plan.

https://www.dawn.com/news/258290

Friday, 7 April 2017

IK's blunder on Afghan Policy & General Raheel's appointment in Saudi Arabia....

https://www.youtube.com/watch?v=e563KrG3GKY&feature=youtu.be

PTI's blunder on Afghan and Middle East policies...
If they dont understand Geo-politics, they should remain silent but not insult our martyrs...

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1275442399177235

General Raheel, role of politicians, leadership and the future of Pakistan....

https://www.youtube.com/watch?v=kbfn1prnro0

Chanel 24 prog on General Raheel, role of politicians, leaership and the future of Pakistan....
Neo TV prog to be uploaded soon IA

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1275333082521500



افغان جہاد نہ تو امریکہ کی جنگ تھی نہ ’دوسروں‘ کی لڑائی۔ یہ پاکستان کی اپنی مغربی سرحدوں کے دفاع اور امت مسلمہ کے احیاءکا جہاد تھا۔


ایک حکمران کیلئے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ مخلص یا ایماندار ہے۔ انتہائی درجے کی عقل، حکمت اور فراست بھی ہونا لازم ہے، ورنہ مکمل تباہی ہوگی۔
اسی لیے اقبالؒ بابا نے میر کارواں کیلئے شرط ہی یہ رکھی ہے کہ اس کو ’نگاہ بلند‘ بھی ہونا چاہیے، وہ ’سخن دلنواز‘ بھی ہو اور ’جاں پرسوز‘ بھی
پاکستان کا المیہ ہی یہ ہے کہ لیڈر یا تو سمجھدار ڈاکو ہیں، یا انتہائی احمق ایماندار۔ قوم اگر ایک مگرمچھ سے بچتی ہے تو دوسرے کھڈ میں گرتی ہے
80 کی دہائی میں امت مسلمہ کی عظیم ترین تحریک مزاحمت اور جہاد افغانستان میں پاکستان کی شرکت کے خلاف بیان دے کر عمران نے تو مجھے تپا ہی دیا
عمران کو قطعی طور پر سیاست ، دفاعی امور، تاریخی تغیر اور بین الاقوامی امور کی دھیلے کی سمجھ نہیں۔ اس سے زیادہ تو میرے ڈرائیور کو سمجھ ہے۔
71 ءمیں سوویت یونین نے بھارت کے ساتھ ملکر پاکستان کو توڑا ۔ 79 ءمیں ہمارا یہی خونخوار دشمن درہ خیبر تک آ پہنچا تھا۔ اب پاکستان کیا کرتا؟
پچھلے ڈھائی سو سال سے روس ایشیاءوسطی کے مسلمان علاقوں کو ہڑپ کرتا ہوا بحر ہند کی جانب بڑھ رہا تھا۔ 79 ءمیں وہ افغانستان میں داخل ہوا۔
ذرا سوچیں کہ اگر سوویت افغانستان پر پوری طرح قابض ہوجاتا، تو پھر یہ دونوں(سوویت۔بھارت) ملکر بچے کچھے کمزور پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کرتے؟
افغان جہاد میں شامل ہو کر سوویت کو افغانستان میں روکنا پاکستان کی عسکری و سیاسی تاریخ کا عظیم ترین فیصلہ تھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا
یہ وقت جرات مندانہ پالیسی تھی کہ ہم نے دنیا کو اپنے ساتھ ملایا، اتحاد بنائے، اور پھر سوویت یونین کو افغانستان میں دفن کیا۔
اسی دور میں دنیا سے ملنے والی امداد سے ہم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ترقی دی، میزائل بنائے اور دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔
اس سے زیادہ جرات مندانہ فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ ہم افغانستان میں سوویت یونین سے انتقام بھی لیں اور خود ایٹمی طاقت بھی بن جائیں۔
اس جرات مندانہ افغان پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پورا ایشیاءوسطی آزاد ہے ، سی پیک بن رہا ہے، وہی روس عزت سے پاکستان کے قریب آرہا ہے
ذرا سوچیں کہ اگر سوویت افغانستان پر قبضہ کرلیتا اور پھر بھارت و سوویت پاکستان پر چڑھائی کردیتے، تو 71 ءمیں زخمی پاکستان کہاں جاتا؟
آج عمران کا یہ کہنا کہ ہم نے افغان جہاد میں شرکت کرکے غلطی کی، نہ صرف انتہا درجے کی جہالت ہے، بلکہ لاکھوں شہداءکے خون کی توہین بھی ہے۔
افغان جہاد کی برکت سے کشمیر میں تحریک آزادی شروع ہوئی، فلسطینی انتفادہ کا آغاز ہوا، ایشیاوسطی وچچینا آزاد ہوا، بوسنیی مسلمان بیدار ہوئے
جس طرح آج سی پیک کو گیم چینجر کہا جارہا ہے، اسی طرح افغان جہاد بھی بین الاقوامی سطح پر خصوصاً پاکستان کیلئے سی پیک سے بڑا گیم چینجر تھا
اگر جنرل ضیا اور انکے ساتھ 28 فوجی افسروں کو موساد و راءکی جانب سے شہید نہ کیا جاتا تو آج افغانستان اور ایشیاوسطی تک پاکستان کی رسائی ہوتی
جنرل ضیاءکے بعد آنے والی سیاسی حکومتوں نے افغان جہاد کی قربانیوں اور حکمت عملی کا بیڑا غرق کیا۔ اس میں جنرل ضیاءکا کوئی قصور نہیں ہے۔
افغان جہاد نہ تو امریکہ کی جنگ تھی نہ ’دوسروں‘ کی لڑائی۔ یہ پاکستان کی اپنی مغربی سرحدوں کے دفاع اور امت مسلمہ کے احیاءکا جہاد تھا۔
آج اگر پاک فوج حرمین کے دفاع کیلئے حجاز جاتی ہے تو یہ اوروں کی لڑائی نہیں ہے۔ قائداعظمؒ نے بھی فلسطین و انڈونیشیاکیلئے آواز اٹھائی تھی
یہ پاکستان کی بدنصیبی ہے کہ ہمارے ’ایماندار‘ سیاست دان بھی، اس قدر جاہل ہیں کہ انسان یا اپنا سر پیٹ لے یا ان کا سر دیوار میں مارے۔
پاکستان نے امت مسلمہ کی قیادت کرنی ہے۔امت کے مسائل میں کردار ادا کرنا ’اوروں‘ کی لڑائی نہیں ہوتا، مگر بیوقوفوں و بے شرموں کو کون سمجھائے

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1274958299225645:0


Trump will now declare war in Syria...overtly or covertly.. Israel dragged Trump into this war...


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1273953432659465/

Who will control Kaaba and Masjid e Nabwi in near future ?? This race for Hijaz is another reason for the chaos we see in Arab lands...
Trump will now declare war in Syria...overtly or covertly.. Israel dragged Trump into this war...
Expansion of Israel is also linked to destruction of Muslim world and control of Haramain...

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1273953432659465/

Thursday, 6 April 2017

جتنی پلید یہ قیادت ہے، اس سے زیادہ پلید یہ نظام ہے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم۔ نظام بدلا تو قیادت بھی جائے گی،


آج سندھ میں عام تعطیل ہے۔ بھٹو مرگیا کیا....؟
اس ملک کے چودہ کروڑ سے زائد افراد نے یا تو بھٹو کا دور دیکھا ہی نہیں، یا پھر وہ اتنے چھوٹے تھے کہ انہیں کچھ یاد نہیں۔
سقوط ڈھاکہ کے بعد، کہ جب پوری قوم خون کے آنسو روتی تھی، بھٹوآیا ، اور پھر بچی کچی انسانیت بھی دریائے سندھ میں غرق ہوگئی۔
یہ سب ہماری آنکھوں کا دیکھا ہے، گلی گلی شراب خانے و طوائف خانے تھے، کلفٹن کے ساحل پر ایشیاءکا سب سے بڑا جوا خانہ تعمیر ہورہا تھا۔
بھٹو کے دور میں ہمارے والدین ہمیں پی ٹی وی نہیں دیکھنے دیتے تھے ،کہ شب ڈھلتے ہی فحش فلموں کا آغاز ہوجاتا تھا۔
ایک صدقہ جاریہ انسان کے مرنے کے بعد بھی اس کے درجات کو بلند کرتا رہتا ہے، اور ایک شخص کا لگایا ہوا شجرخبیثہ دائمی عذاب میں اضافے کے باعث
میں یہ سوچ کر ہی کانپ جاتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کی شکل میں جو شجرخبیثہ بھٹو نے لگایا آج وہ کس طرح اس کیلئے درناک عذاب کا باعث بن رہا ہوگا
فیڈرل سیکورٹی فورس کے نام سے ایک دہشت گرد تنظیم اس نے بنائی کہ جس کا مقصد اپنے مخالفین کو قتل، اغوائ، آبروریزی اور دھمکانا تھا۔
اسی ایف ایس ایف کے ذریعے اس نے احمد رضا قصوری کے والد کو بھی قتل کرایا۔ قصوری دلیر آدمی تھا، بھٹو کی جان کو آگیا اور پھانسی لگوا کر چھوڑی
قرآن میں شہداءکا مقام تو انبیاءاور صدیقین کے ساتھ ہے۔ یہ کیسی توہین رسالت ہے کہ ایک قاتل، زانی، شرابی اور غدار کو شہید لکھا جاتا ہے۔
بھٹو کوئی سیاسی شہید نہیں ہے، پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ سے سزا یافتہ ایک سفاک قاتل ہے کہ جس نے ملک توڑا، اور پھر اپنے انجام کو پہنچا
بھٹو کے بعد اس کی ناپاک اولاد نے پاکستان کی پہلی دہشت گردی تنظیم ”الذوالفقار“ بنائی۔ اس نے جہاز اغواءکیے، پاکستان پر حملے کیے۔
بھٹو کا داماد ، یہ تو خبث علی خبث ہے۔ فطرتاً ڈکیت، کراچی میں گندگی فلموں کے ٹکٹ بلیک کرنے میں مشہور، مشہور معاشی دہشت گرد اور قاتل۔
جب اللہ چاہے گا بینظیر کے قتل کا راز بھی کھلے گا، تو معلوم ہوگا کہ ٹکٹ بلیک کرنے سے لیکر صدارت تک کا سفر اس دہشت گرد نے کیسے طے کیا۔
اب بھٹو کی تیسری نسل، کوئی ہیجڑہ نما وجود، پاکستان کا وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، اور یہی جمہوریت رہی تو وہ بن بھی جائے گا
سندھ میں تو سارا سال ہی بھٹو زندہ رہتا ہے، صرف آج کے دن ہی مرتا ہے کہ جس دن اس کے پجاری گڑھی خدا بخش کے مندر پر پوجا کیلئے آتے ہیں۔
یہ غلاظت و کفر و شرک کے انبار کب تک اس پاک سرزمین پر مسلط رہیں گے، اس کا فیصلہ تو میرا رب ہی کرے گا۔ شاید یہ قوم یہی غلاظت چاہتی ہے۔
میرا وجود ہی یہ سوچ کر کانپ جاتا ہے کہ آخرت میں کیا منظر ہوگا کہ جب یہ جیالے بھٹو و زرداری کی قیادت میں دوزخ کی طرف گھسیٹے جارہے ہونگے۔
روز محشر تو یقیناً بھٹو زندہ ہوگا، اس کا حساب بھی ہوگا، انجام بھی دنیا دیکھے گی، اور پھر واقعی جہنم کے گڑھے میں اس کو موت بھی نہیں آئے گی
جو انجام بھٹو کے جیالوں کا ہوگا، وہی آخرت میں الطاف و نواز کے پجاریوں کا حال بھی ہوگا۔ ہر جماعت اپنے امیر کے ساتھ اٹھائی جائے گی۔
جو اپنے ان جھوٹے خداﺅں کے ساتھ جہنم میں جانا چاہتا ہے، شوق سے جائے۔ ہم سے یہ توقع نہ کریں کہ ہم ان بتوں کی عزت کریں گے یا کوئی لحاظ۔
آج اگر الیکشن ہوئے تو یقیناًً سندھ میں صورتحال اس سے مختلف نہیں ہوگی۔ ایک اندھی، گونگی اور بہری قوم کو چور اور ڈاکو ہی پسند آسکتے ہیں۔
جتنی پلید یہ قیادت ہے، اس سے زیادہ پلید یہ نظام ہے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم۔ نظام بدلا تو قیادت بھی جائے گی،
اب اس غلاظت کا خاتمہ اللہ اپنے کسی مرد درویش سے کرواتا ہے، سڑکوں پر خونریزی سے کرواتا ہے، یا نریندر مودی کے ہاتھوں۔ اب ہم دیکھیں گے۔
ہم اس غلاظت کے خلاف اعلان بغاوت کرچکے ہیں۔ ہماری قیادت سیدی رسول اللہﷺ کی ہے، اور نظام خلافت راشدہ کا
اللہ انفرادی غلطیوں و کوتاہیوں کو تو درگزر فرما دیتا ہے، مگر اجتماعی ذلالت کی بڑی عبرتناک سزا دیتا ہے۔ بھٹو اسی ذلالت کی صرف ایک نشانی ہے
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1271504812904327