Showing posts with label Soviet Afghan war. Show all posts
Showing posts with label Soviet Afghan war. Show all posts

Thursday, 11 June 2020

JazakAllah Syyedi, You put your sweat and blood into this book. We're fortunate to have this memoire if yours. That too for free. ☺ May we be the ones to receive khair from it. Ameen.

This is where I come from.... This is what shaped me... This is what makes me so cautious when it comes to security of our nation & region...for I have seen how nations are destroyed by the blunders of the leadership...& the cost humans have to pay for it.

This is my history too.....what shaped me into what I do today. What I speak or write today has its genesis in the baptism of fire and blood I received in the battlefields of Afghanistan in the 80s. This is the only memoir of that war written by a veteran

Today we are giving you all a very passionate gift... English version of my epic historical memoirs of Soviet Afghan war .. "From Indus to Oxus".... This is gold standard on the history of Afghan conflict.. Download for free...! Happy reading!

Friday, 7 April 2017

افغان جہاد نہ تو امریکہ کی جنگ تھی نہ ’دوسروں‘ کی لڑائی۔ یہ پاکستان کی اپنی مغربی سرحدوں کے دفاع اور امت مسلمہ کے احیاءکا جہاد تھا۔


ایک حکمران کیلئے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ مخلص یا ایماندار ہے۔ انتہائی درجے کی عقل، حکمت اور فراست بھی ہونا لازم ہے، ورنہ مکمل تباہی ہوگی۔
اسی لیے اقبالؒ بابا نے میر کارواں کیلئے شرط ہی یہ رکھی ہے کہ اس کو ’نگاہ بلند‘ بھی ہونا چاہیے، وہ ’سخن دلنواز‘ بھی ہو اور ’جاں پرسوز‘ بھی
پاکستان کا المیہ ہی یہ ہے کہ لیڈر یا تو سمجھدار ڈاکو ہیں، یا انتہائی احمق ایماندار۔ قوم اگر ایک مگرمچھ سے بچتی ہے تو دوسرے کھڈ میں گرتی ہے
80 کی دہائی میں امت مسلمہ کی عظیم ترین تحریک مزاحمت اور جہاد افغانستان میں پاکستان کی شرکت کے خلاف بیان دے کر عمران نے تو مجھے تپا ہی دیا
عمران کو قطعی طور پر سیاست ، دفاعی امور، تاریخی تغیر اور بین الاقوامی امور کی دھیلے کی سمجھ نہیں۔ اس سے زیادہ تو میرے ڈرائیور کو سمجھ ہے۔
71 ءمیں سوویت یونین نے بھارت کے ساتھ ملکر پاکستان کو توڑا ۔ 79 ءمیں ہمارا یہی خونخوار دشمن درہ خیبر تک آ پہنچا تھا۔ اب پاکستان کیا کرتا؟
پچھلے ڈھائی سو سال سے روس ایشیاءوسطی کے مسلمان علاقوں کو ہڑپ کرتا ہوا بحر ہند کی جانب بڑھ رہا تھا۔ 79 ءمیں وہ افغانستان میں داخل ہوا۔
ذرا سوچیں کہ اگر سوویت افغانستان پر پوری طرح قابض ہوجاتا، تو پھر یہ دونوں(سوویت۔بھارت) ملکر بچے کچھے کمزور پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کرتے؟
افغان جہاد میں شامل ہو کر سوویت کو افغانستان میں روکنا پاکستان کی عسکری و سیاسی تاریخ کا عظیم ترین فیصلہ تھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا
یہ وقت جرات مندانہ پالیسی تھی کہ ہم نے دنیا کو اپنے ساتھ ملایا، اتحاد بنائے، اور پھر سوویت یونین کو افغانستان میں دفن کیا۔
اسی دور میں دنیا سے ملنے والی امداد سے ہم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ترقی دی، میزائل بنائے اور دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔
اس سے زیادہ جرات مندانہ فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ ہم افغانستان میں سوویت یونین سے انتقام بھی لیں اور خود ایٹمی طاقت بھی بن جائیں۔
اس جرات مندانہ افغان پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پورا ایشیاءوسطی آزاد ہے ، سی پیک بن رہا ہے، وہی روس عزت سے پاکستان کے قریب آرہا ہے
ذرا سوچیں کہ اگر سوویت افغانستان پر قبضہ کرلیتا اور پھر بھارت و سوویت پاکستان پر چڑھائی کردیتے، تو 71 ءمیں زخمی پاکستان کہاں جاتا؟
آج عمران کا یہ کہنا کہ ہم نے افغان جہاد میں شرکت کرکے غلطی کی، نہ صرف انتہا درجے کی جہالت ہے، بلکہ لاکھوں شہداءکے خون کی توہین بھی ہے۔
افغان جہاد کی برکت سے کشمیر میں تحریک آزادی شروع ہوئی، فلسطینی انتفادہ کا آغاز ہوا، ایشیاوسطی وچچینا آزاد ہوا، بوسنیی مسلمان بیدار ہوئے
جس طرح آج سی پیک کو گیم چینجر کہا جارہا ہے، اسی طرح افغان جہاد بھی بین الاقوامی سطح پر خصوصاً پاکستان کیلئے سی پیک سے بڑا گیم چینجر تھا
اگر جنرل ضیا اور انکے ساتھ 28 فوجی افسروں کو موساد و راءکی جانب سے شہید نہ کیا جاتا تو آج افغانستان اور ایشیاوسطی تک پاکستان کی رسائی ہوتی
جنرل ضیاءکے بعد آنے والی سیاسی حکومتوں نے افغان جہاد کی قربانیوں اور حکمت عملی کا بیڑا غرق کیا۔ اس میں جنرل ضیاءکا کوئی قصور نہیں ہے۔
افغان جہاد نہ تو امریکہ کی جنگ تھی نہ ’دوسروں‘ کی لڑائی۔ یہ پاکستان کی اپنی مغربی سرحدوں کے دفاع اور امت مسلمہ کے احیاءکا جہاد تھا۔
آج اگر پاک فوج حرمین کے دفاع کیلئے حجاز جاتی ہے تو یہ اوروں کی لڑائی نہیں ہے۔ قائداعظمؒ نے بھی فلسطین و انڈونیشیاکیلئے آواز اٹھائی تھی
یہ پاکستان کی بدنصیبی ہے کہ ہمارے ’ایماندار‘ سیاست دان بھی، اس قدر جاہل ہیں کہ انسان یا اپنا سر پیٹ لے یا ان کا سر دیوار میں مارے۔
پاکستان نے امت مسلمہ کی قیادت کرنی ہے۔امت کے مسائل میں کردار ادا کرنا ’اوروں‘ کی لڑائی نہیں ہوتا، مگر بیوقوفوں و بے شرموں کو کون سمجھائے

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1274958299225645:0


Tuesday, 23 February 2016

Absolutely fascinating Urdu column on how the Communists were defeated in Pakistan & treacherous role of ANP/BLA


http://myurducolumns.blogspot.com/2016/02/blog-post.html

Every Pakistani and opinion maker as well as Security Managers MUST read this column which is written on a book by a former Communist Juma Khan.

Today, we hear this bakwas that General Zia and Pak army destroyed Pakistan by fighting a war in Afghanistan against Soviets. There are many idiots who still consider Wali Khan and Asfandyar Wali gangs as Nationalists and still think that Pakistan is at fault on Baluchistan. These snakes can never change but the patriots MUST know the real history.

Imagine, the ANP and their entire leadership should have been hanged for high treason BUT only in Pakistan they can continue to rule and act as traitors even today..

*********************************

FEB
22
بلا لو اپنے اللہ کو
جمعہ خان صوفی کی کتاب ’’فریبِ نا تمام‘‘ ہاتھ میں آئی تو ستر اور اسّی کی دہائیاں آنکھوں میں گھوم گئیں۔ اس مملکت خداداد پاکستان کے روشن خیال، ترقی پسند اور قوم پرست رہنماؤں، دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں میں کمیونسٹ انقلاب کا غلغلہ تھا۔ امریکا، برطانیہ، یورپ اور ان کی جمہوریت فیض احمد فیض کے نزدیک بھی گالی تھی اور شاہی قلعے میں جان دینے والے حسن ناصر کے نزدیک بھی۔ کچھ روس کی جانب نگاہیں جمائے کھڑے تھے اور اکثر چین کے مداحین میں شامل تھے۔

چینی سفارت خانے سے مفت لٹریچر، رسالے اور ساتھ میں سرخ رنگ والا بیج ملتا تھا جس پر سنہری پانی سے ماؤزے تنگ کا چہرہ ابھرا ہوا ہوتا تھا۔ کوئی سیاسی جلسہ، جلوس، ریلی یا کانفرنس ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں امریکا کو گالی نہ دی جاتی ہو۔ بورژوا یعنی سرمایہ دار اور پرولتاریہ یعنی مزدور، دو ایسے الفاظ تھے جو زبان زد عام تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی میں ایسے کتنے تھے جو یہ خواب لے کر شامل ہوئے کہ اس شخص کی کرشماتی شخصیت کے ذریعے ہم اس ملک میں کمیونسٹ انقلاب لے آئیں گے۔ لیکن جیسے ہی مرحوم نے چوہدریوں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کو شامل کرنا شروع کیا تو پہلے سخت قسم کے انقلابی چھوڑ گئے اور اقتدار میں آنے کے بعد جے رحیم اور معراج محمد خان کا حشر دیکھتے ہوئے باقی بھی قوم پرست سیاست میں پناہ ڈھونڈنے لگے۔

یہ قوم پرستی بلوچ اور پختون علاقوں میں ایک عرصے سے ایک مستحکم تحریک کی حیثیت رکھتی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی انا پرستی اور آمرانہ سوچ نے جب بلوچستان کی جمہوری حکومت توڑی اور وہاں فوجی ایکشن شروع کیا تو خیبر پختونخوا جو اس وقت سرحد کہلاتا تھا، وہاں کی حکومت مستعفی ہو گئی، غداری کے مقدمے شروع ہوئے اور بلوچ، پختون افغانستان میں پناہ گزین ہو گئے۔ دراصل، پاکستان بننے کے ساتھ ہی بھارت اور افغانستان کی مدد سے پختونستان کی علیحدگی کی تحریک کی آبیاری کی جا رہی تھی۔ اس تحریک کو روس کی کمیونسٹ حکومت کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔
1920 میں سوویت یونین کے قیام کے صرف تین سال بعد آذر بائیجان میں علاقائی قومیتوں کی کانفرنس ہوئی تھی جس میں بلوچ اور پشتون وفد شامل تھے اور یہ طے کیا گیا تھا کہ قوم پرستی کے ذریعے کمیونسٹ انقلاب کی راہ ہموار کی جائے گی۔ جمعہ خان ان قوم پرست انقلابیوں میں سے تھا جس نے پاکستان سے افغانستان ہجرت کی اور ان تمام تخریب کاریوں اور دہشت گردیوں کا حصہ رہا جو روس، بھارت اور افغانستان کے سرمایہ اور مدد سے پاکستان میں کی جاتی تھیں۔ اس نے ان رازوں سے اس کتاب میں پردہ اٹھایا ہے۔ وہ دیباچے میں لکھتا ہے ’’اس جلاوطنی کے دوران میں بھارت، سوویت یونین، افغانستان سے داؤد خان، حفیظ اللہ امین، ترہ کئی، کارمل اور ڈاکٹر نجیب تک سب کے ساتھ براہ راست رابطہ میں رہا۔

اس دوران پاکستان میں ولی خان اور بلوچستان کی آزادی کے داعیوں کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ رہا۔ میں نے دیکھا کہ کیسے سیاسی مقصد کے نام پر بڑے بڑے لوگ اور خاندان پیسے کماتے اور نام بناتے ہیں‘‘۔ جمعہ خان انگریزی لٹریچر میں 1970 میں لیکچرار مقرر ہوا لیکن ساتھ ساتھ وہ 1971 میں صوبہ سرحد میں کمیونسٹ پارٹی کی تشکیل میں بھی شامل تھا۔ اس نے اجمل خٹک کے ذریعے ماسکو کا خفیہ دورہ کیا اور وہاں ٹرینگ حاصل کی۔ 23 مارچ 1973 کو جب بھٹو حکومت نے لیاقت باغ میں حزب اختلاف کے جلسے میں موجود نہتے عوام پر گولیا ں برسائیں تو نیپ نے فیصلہ کیا کہ کچھ لوگوں کو افغانستان بھیجا جائے تا کہ پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کا آغاز ہو۔ ان لوگوں میں جمعہ خان بھی شامل تھا۔

ولی خان آنکھوں کے علاج کے بہانے 1973 کے آخر میں لندن جانے کے بجائے کابل گیا ، اور وہاں تمام حالات کا خود جائزہ لیا اور پھر فوراً بعد بلوچ نوجوان ٹریینگ کے لیے افغانستان آنا شروع ہو گئے۔ یہاں جمعہ خان نے ان تمام معاملات کا ذکر کیا ہے کہ کن راستوں سے بلوچوں اور پشتونوں کو اسلحہ وغیرہ دے کر پاکستان بھیجا جاتا تھا ۔ ’’کو کران‘‘ اور ’’زابل‘‘ میں دو کیمپ تھے جن میں سات ہزار لوگوں کو ٹریننگ دی جاتی تھی۔ انھی لوگوں نے 8 فروری 1975 کو بم دھماکے سے حیات محمد خان شیر پاؤ کا قتل کیا اور وہ مہمند ایجنسی کے راستے افغانستان پہنچ گئے۔

جمعہ خان نے اس کتاب میں ان تمام پشتون اور بلوچ رہنماؤں کا کھل کر تذکرہ کیا ہے جو روس اور بھارت سے سرمایہ حاصل کر کے پاکستان میں دہشت پھیلانے کے لیے کارروائیاں کراتے تھے۔ جمعہ خان ایک جگہ لکھتا ہے۔ ’’ہم جو ہندوستان کے دوست تھے، اپنے مشترکہ دشمن پاکستان کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے اور مشترکہ دوست افغانستان میں بیٹھے سرگرم تھے۔،، اس نے ہندوستانی سفیر سے ملاقاتوں، بھارتی سرمائے اور ٹریننگ کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے ، اس میں ولی خاں اور دیگر بلوچ لیڈروں کا کھل کر تذکرہ کیا ہے۔

پاکستان کے وہ ’’عظیم‘‘ مورخ اور ’’دانشور‘‘ جو اس قوم کو گمراہ کرتے ہیں کہ ہم نے افغانستان کے معاملات میں مداخلت شروع کی اسی لیے ہم بدامنی کا شکار ہیں ان کے منہ پر جمعہ خان صوفی کی یہ کتاب ا یک طمانچے سے کم نہیں۔ اسی کتاب میں اس نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں حکمت یار، ربانی، احمد شاہ مسعود، یونس خالص، محمد نبی اور قاضی امین قادر، جون 1974میں پاکستان آئے اور بھٹو نے نصیر اللہ بابر کو انھیں جوابی کارروائی کے طور پر ٹریننگ دینے کے لیے مامور کیا۔ جن لوگوں کی تاریخ ضیاء الحق سے شروع ہو کر وہیں ختم ہو جاتی ہے ان کے لیے اس کتاب کی حقیقت کو ہضم کرنا بہت مشکل ہے۔

لیکن اس ساری جنگ و جدل میں مجھے آج بھی وہ ایام یاد آتے ہیں جب نور محمد ترکئی نے افغانستان میں حکومت سنبھالی تو پاکستان میں کمیونسٹ دانشور اور سیاسی کارکن یہ نوید دے رہے تھے کہ سرخ سویرا اب ہماری سرحدوں پر دستک دے رہا ہے۔ 30 اپریل 1978کو آنے والے اس انقلاب کو ثور انقلاب کہا جاتا تھا۔ ادھر انھی دنوں میں ایران کی کمیونسٹ ’’تودہ‘‘ پارٹی اور مجاہدین خلق نے شاہ کے خلاف تحریک کا آغاز کر دیا اور 1979 میں شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا لیکن وہاں قیادت مذہبی لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی۔ کمیونسٹ مایوس نہ ہوئے، لیکن ظاہر ہے انقلاب کی خونریزی کمال کی ہوتی ہے۔
مجاہدین خلق کو منافقین اور امریکی ایجنٹ کہہ کر مولویوں نے قتل کر دیا اور انھیں جیلوں میں پھانسی دے دی گئی۔ وہ جو پاکستان کی دونوں سرحدوں سے سرخ سویرے کی آمد کے خواب دیکھتے تھے اب صرف افغانستان سے ان کی امیدیں وابستہ رہ گئیں اور جیسے ہی دسمبر 1979 میں روسی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں، پاکستان کے کمیونسٹ انقلابیوں کی خوشی دیدنی تھی۔ اس دور کے تبصرے، مضامین، یہاں تک کہ شاعری نکال کر دیکھ لیں، سرحدوں سے سرخ سویرے کی خوشبوؤں کی آمد کے تذکرے تھے۔ وہ جو بھٹو کی پیپلزپارٹی سے مایوس ہوچکے تھے زور زور سے مذہبی قوتوں کو للکارتے کہ دیکھو بس چند دن کی بات ہے، تمہارا حشر بھی تاجکستان اور ازبکستان کے مولویوں کی طرح ہونے والا ہے۔

کتنے دن اور اپنی مسجدوں کو بچاؤ گے، کتنے دن اور اپنی داڑھیاں رکھ لو گے۔ ہمارا مرحوم دوست آفتات مفتی تازیانہ اخبار کا ایڈیٹر تھا، عالمی تبصرہ نگاری کرتے ہوئے کہا کرتا تھا اب دنیا پر کمیونزم کا راج آنے والا ہے، اگر چاہتے ہو تو بلا لو اپنے اللہ کو کہ وہ اسے روک لے۔ بلوچستان اور سرحد میں حالات گھمبیر نہ تھے۔ ہمیں حیرت ہوتی تھی۔ لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ وہاں کے انقلابیوں نے جمعہ خان صوفی کی طرح ان وطن فروش لیڈروں کا چہرہ افغانستان میں دیکھ لیا تھا۔

دوسری بات ضیاء الحق کا عام معافی کا اعلان تھا جس نے پورے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں اگلے دس نہیں بلکہ بیس سال امن کے نام لکھ دیے۔ ایسے میں پہلے دو سال افغان مجاہدین نے پاکستان کی بقا، سلامتی اور اس کی سرحدوں کی جنگ افغانستان کی سرزمین پر اپنے خون سے لکھی۔ ضیاء الحق آج تک اس لیے گالی ہے کہ اس نے ان تمام دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں کے خواب چکنا چور کر دیے جو اس سرزمین پاکستان پر واپسی روسی ٹینکوں اور روسی گن شپ ہیلی کاپٹروں کی صورت میں دیکھنا چاہتے تھے۔

دو سال بعد امریکا اور مغربی دنیا کو اندازہ ہوا کہ افغانوں کے ذریعے روس کو شکست دی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد ہر مغربی ملک اس جہاد میں کودا اور یوں اس جہاد نے پاکستان کی سرحد سے روسی افواج کو اس قدر دور دھکیل دیا کہ خود روس کا کمیونزم ذلت آمیز موت کا شکار ہو گیا۔ لینن گراڈ میں لینن کا مجسمہ گرا دیا گیا۔ وہ جو کہتے تھے بلاؤ اپنے اللہ کو کہ روک لے روس کی افواج کو، ایسے خاموش ہوئے کہ میرا دوست آفتاب مفتی مجسمہ گرتے دیکھ کر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گیا۔ جو سخت جان تھے وہ جس امریکا اور مغرب کو روز گالیاں دیتے تھے انھی کے سفارت خانوں میں اپنی این جی اوز کے لیے گرانٹ کی درخواستیں لے کر لائن میں کھڑے نظر آئے۔
کمیونسٹ روس کے ختم ہوتے ہی چند ماہ بھی صبر نہ کر سکے اور امریکا کے دروازے سامنے بھکاریوں کی طرح جا کھڑے ہوئے۔ آج ان کے منہ سے افغان جہاد، امریکا اور ضیاء الحق کی مخالفت سنتا ہوں تو ہنسی آتی ہے۔ لیکن کیا کریں میرا اللہ بھی بہت غیرت و حمیت والا ہے۔ جو اس کے دروازے کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے وہ اسے دربدر بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/945791298809015


Monday, 8 February 2016

Watch this video of Gen Zia. Great wars come at great cost but they need even greater leadership to fight.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/938419342879544/?video_source=pages_finch_main_video

Watch this video of Gen Zia. DO NOT abuse him please. I am specially talking to PPP and Shia Muslims.. All abusive posts will be blocked for good.

This was the time when we played great on the global scale. We destroyed the Soviets, we made a total fool of the Americans, Built our bomb and started to destroy the Indians. We liberated the central Asia, gave freedom to Afghans and opened the path for today's great game of CPEC. Great wars come at great cost but they need even greater leadership to fight.

You may hate this man, but you must appreciate his love for Pakistan and his capability play the great war games..
We need a leader like him.. without his mistakes..:-)

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/938419342879544/



It was NOT Zia's fault that Soviets invaded Afg, Iranian revolution came & Iran-Iraq sectarian war started all over ME - all around 1979.



My dear children, members,

In the last few hours, I have blocked over a 100 members for abusive language, hostile comments and slander against General Zia Shaheed. Most of the blocked members were either Shia Muslims or from the other category of liberal beyghairats who hate Zia anyways because of his desire to Islamize Pakistan.

Most of you were not born at that time or were too small to know his era. If you trust me, then trust me here also. I am praising him for a reason that he was the most feared man for the enemies of Islam and Pakistan. There was a reason why CIA, Mossad and RAW joined hands to assassinate him.

Gen Zia was NOT perfect. He made many mistakes in his sincere desire to revive the Islamic soul of the nation. Every leader in difficult times make mistakes but you have to see his intention and the damage he does to the enemy.

Gen Zia did NOT start the sectarian war in Pakistan. Iran and Saudi Arabia/Iraq/Libya/Syria did.

He was a brave man, strongly anti India and revived the Jihad in Kashmir and was on a solid plan to break India. He was a pan Islamist, highly respected in the Ummah. After Shah Faisal of Saudi Arabia, Gen Zia is till the most loved Muslim leader in the world.

There is NO doubt that he was the most strongest and best leader we had after Quaid e Azam and Liaqat Ali Khan. No one has matched his caliber in shaping the global politics and making Pakistan strong. If you blame him, it is like blaming Quaid e Azam for dying too early and leaving the job unfinished... that would be absurd..

Gen Zia was killed by the enemies. He died in Pak uniform, defending Pakistan. I would love to die like him...

You appreciate when I post things which suit your sect or political party and start to abuse shamelessly when I tell the truth which goes against your fabricated beliefs. My job is not to collect fans BUT to educate you for a reason.

read my book -- From Indus to Oxus !! It is available at Feroz sons also and from our office as well. It is in English and Urdu. This is the history of Afghan Jihad and Pakistan in the 80's, when most of you were not even born. Read, educate yourself and then form an informed opinion.

I dont have to lie to you. why should I ?? Come out of your sectarian hatred and become a Pakistani Muslim for once. We will not post to gain fans. We will post to defend Pakistan and educate you, even if it means getting abused by your own beyadab and gustakh children...

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/938508642870614/?type=3

Do you know who started the sectarian wars in Pakistan ?

Do you know who started the sectarian wars in Pakistan ?

These wars were started by Iran and joint Arab block of Saudi Arabia, Kuwait, Iraq, Libya & Syria.

In 1979 -- 3 major events took place which shook the world. General Zia did not create those events. He was just the ruler of Pakistan at that time..

In Afghanistan, Soviet Union invaded and came right next to Peshawar with its mighty army....

Iran revolution came and entire Shia world was set ablaze in a Shia revolution.

Saudi Arabia, Iraq and other arab countries attacked Iran and a massive 10 years Sunni-Shia war began in every part of the Muslim world... This war came into Pakistan also...

Is this the fault of General Zia that Millions of Afghan Muslims migrated to Pakistan to save themselves from brutalities of Soviets ?

Is this the fault of General Zia that he decided to stop the Soviets in Afghanistan because Soviets were arch enemies of Pakistan at that time and just 9 years ago had worked with Indians to break off East Pakistan ? Now the Soviets were on Torkham and Indians were on East and a very weak Pakistan was trapped in the middle.

Is this the fault of Gen Zia that Saudis/Iraqis attacked Iran and a sectarian war started in Muslim world ?

Is this the fault of Zia that children of Bhutto formed the first major terrorist organization of Pakistan and started to wage a bloody war inside Pakistan with the help of RAW, KGB, Khad and Iraqi/Libya/syrian govts??

Is this Zia's fault that he fully exploited the weaknesses of the Americans to make Pakistan a full nuclear power ?

Is this the fault of Zia that he exploited the US dependence upon Pakistan to start JIhad in Kashmir and supported the Khalistan movement to break India?

If you want to blame anyone for starting the sectarian wars in Pakistan, then blame Irani revolution and Saudi Salafism. Pakistan and General Zia were only trapped in this war while we fought to push Soviets back from Afghanistan and were focused on destroying India.

Only an idiot, insane sectarian rascal would say that Zia started sectarian wars in Pakistan. It is like saying Zia started the Iran-Iraq war also.... astaghfurullah..

Pakistan adopted finest foreign policy at that time -- the one which changed the world forever. It was the political governments after Zia that destroyed the entire advantage we had in Afghanistan and in India. Blame the bloody democracy for it, NOT Zia Shaheed.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/938533222868156

Thursday, 26 November 2015

Our martyrs will be avenged ! This is a promise. NATO gave fire support to TTP terrorists & attacked Pak army post.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/904635299591282




We have NOT forgotten nor we have forgiven ! We remember our martyrs and also our enemies ! US and NATO have killed our boys when our brave sons were defending this Medina e Sani. InshAllah, a similar fate awaits US/NATO in Afghanistan as it was suffered by the Soviets ! We will take revenge !